سوشل میڈیا اور معاشرتی اقدار
ڈیجیٹل عہد میں اخلاق، شعور اور انسان کی ذمہ داری
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ہر تہذیب کی ایک آزمائش ہوتی ہے
کبھی انسان کو طاقت نے آزمایا، کبھی دولت نے، کبھی اقتدار نے اور کبھی علم نے۔
ہمارے عہد کی آزمائش ایک چھوٹی سی اسکرین ہے، جو ہماری ہتھیلی میں سمٹ آئی ہے، مگر اس نے پوری دنیا کو ہمارے ذہن، ہمارے دل اور ہماری زندگی میں داخل کر دیا ہے۔
آج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں، بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اس جنگ میں ہتھیار بارود نہیں، بلکہ معلومات ہیں؛ گولیاں نہیں، بلکہ الفاظ ہیں؛ اور میدانِ جنگ ہماری موبائل اسکرینیں ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سوشل میڈیا کو استعمال کر رہے ہیں، یا سوشل میڈیا ہمیں استعمال کر رہا ہے؟
یہ سوال محض ٹیکنالوجی کا نہیں، بلکہ تہذیب، اخلاق، شعور اور انسان کی ذمہ داری کا سوال ہے۔
—
آئینہ یا حقیقت؟
سوشل میڈیا محض ایک ایپلی کیشن یا ٹیکنالوجی کا نام نہیں، بلکہ یہ ہمارے عہد کا ایسا آئینہ ہے جو ہماری اجتماعی سوچ، اخلاقی ترجیحات اور انفرادی کردار کی عکاسی بھی کرتا ہے اور انہیں تشکیل بھی دیتا ہے۔
یہ وہ دنیا ہے جہاں سچ اور جھوٹ ایک ہی رفتار سے سفر کرتے ہیں، جہاں چند لمحوں میں ایک گمنام شخص مشہور ہو جاتا ہے اور ایک بے بنیاد خبر لاکھوں ذہنوں پر اثر انداز ہو جاتی ہے۔
اسی لیے سوشل میڈیا صرف معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ذہن سازی کا ایک طاقتور وسیلہ بھی ہے۔
یونانی فلسفی افلاطون نے اپنی مشہور “غار کی تمثیل” میں ایسے انسانوں کا ذکر کیا ہے جو دیوار پر پڑنے والے سایوں ہی کو حقیقت سمجھ بیٹھے تھے۔ جب ان میں سے ایک شخص غار سے باہر آیا تو اسے معلوم ہوا کہ اصل حقیقت ان سایوں سے کہیں زیادہ وسیع اور روشن تھی۔
ڈیجیٹل دور کا انسان بھی کسی حد تک اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ آج جو چیز زیادہ وائرل ہو، وہ زیادہ سچی محسوس ہونے لگتی ہے؛ جس رائے کو زیادہ پسندیدگی ملے، وہ زیادہ معتبر دکھائی دیتی ہے؛ اور جس خبر کو زیادہ مرتبہ دہرایا جائے، وہ گویا حقیقت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔
حالانکہ حق ہمیشہ اکثریت کا محتاج نہیں ہوتا، اور حقیقت ہمیشہ شور مچانے والوں کے ساتھ نہیں کھڑی ہوتی۔
—
قرآن کا زاویۂ نظر
اسلام انسان کو جذبات کے بجائے بصیرت، افواہوں کے بجائے تحقیق، اور جلد بازی کے بجائے ذمہ داری کی تعلیم دیتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
«﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾»
،اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو”
،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو
پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔” (الحجرات: 6)
یہ آیت صرف ایک تاریخی واقعے کی رہنمائی نہیں، بلکہ ہر اس دور کے لیے دستورِ عمل ہے جہاں خبریں لمحوں میں پھیلتی ہوں اور رائے تحقیق سے پہلے قائم ہو جاتی ہو۔
آج “فارورڈ” کرنے سے پہلے تحقیق کرنا، “شیئر” کرنے سے پہلے ذمہ داری محسوس کرنا، اور “وائرل” ہونے سے پہلے سچائی کو جانچنا، درحقیقت اسی قرآنی حکم کی عملی تعبیر ہے۔
:قرآن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے
«﴿مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾»
انسان جو لفظ بھی زبان سے نکالتا ہے، اس پر ایک نگہبان مقرر ہے۔” (سورۃ ق: 18)”
یہ اصول صرف زبان تک محدود نہیں۔ آج ہماری انگلیوں سے لکھا گیا ہر لفظ، ہر تبصرہ، ہر پیغام اور ہر شیئر بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں لکھی گئی تحریریں بھی ہمارے نامۂ اعمال کا حصہ بن جاتی ہیں۔
—
جب الگورتھم اخلاقیات پر غالب آ جائے
(Algorithm)سوشل میڈیا کے پسِ پردہ ایک خودکار فیصلہ ساز نظام
کام کرتا ہے۔ یہی نظام طے کرتا ہے کہ آپ کی اسکرین پر کون سی خبر پہلے آئے گی، کون سی ویڈیو زیادہ دیر تک آپ کی توجہ حاصل کرے گی، اور کس قسم کا مواد آپ کو مسلسل دیکھتے رہنے پر آمادہ کرے گا۔
(Attention)اس نظام کا بنیادی مقصد سچائی کی خدمت نہیں، بلکہ توجہ
کو زیادہ سے زیادہ دیر تک اپنی گرفت میں رکھنا ہے۔
(Attention Economy)”جدید ماہرین اسے “توجہ کی معیشت
کہتے ہیں، جہاں سب سے قیمتی سرمایہ انسان کا وقت اور اس کی توجہ ہے۔
چنانچہ ایسا مواد جو اشتعال پیدا کرے، خوف کو بھڑکائے، نفرت کو ہوا دے یا تجسس کو ابھارے، وہ اکثر زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، کیونکہ وہ انسانی جذبات کو فوری طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
یہیں سے ایک نازک سوال جنم لیتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں “کیا زیادہ دیکھا جا رہا ہے؟” یہ سوال “کیا زیادہ سچا ہے؟” سے زیادہ اہم بن جائے، تو اخلاقی پیمانے خاموشی سے بدلنے لگتے ہیں۔
اور جب انسان کی ترجیحات حق، حکمت اور کردار کے بجائے صرف شہرت، مقبولیت اور وائرل ہونے کے گرد گھومنے لگیں، تو معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھونے لگتا ہے۔
اسی لیے سوشل میڈیا کا اصل بحران ٹیکنالوجی کا بحران نہیں، بلکہ انسانی شعور اور اخلاقی بصیرت کا بحران ہے۔
یہیں سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا صرف زوال کا ذریعہ ہے، یا یہی ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت اور خیر کے فروغ کا ایک عظیم وسیلہ بھی بن سکتی ہے؟
—
سوشل میڈیا: ایک ہی سکے کے دو رخ
اگر ہم سوشل میڈیا کو صرف ایک فتنہ قرار دے دیں تو یہ انصاف نہیں ہوگا، اور اگر اسے ہر مسئلے کا حل سمجھ بیٹھیں تو یہ بھی حقیقت سے فرار ہوگا۔
اسلام ہمیں ہر معاملے میں اعتدال، توازن اور انصاف کا سبق دیتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا کو بھی جذبات کی نہیں، بلکہ بصیرت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ہر نعمت اپنے ساتھ ایک آزمائش بھی لاتی ہے۔ آگ گھر کو روشن بھی کرتی ہے اور جلا بھی سکتی ہے۔ پانی زندگی بھی بخشتا ہے اور سیلاب کی صورت میں تباہی بھی لا سکتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی ایک طاقت ہے؛ اس کا خیر یا شر ہونا اس کے استعمال پر منحصر ہے۔
جب اسکرین کردار پر غالب آ جائے
آج سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان صرف وقت کا ضیاع نہیں، بلکہ کردار کا بتدریج کمزور ہونا ہے۔
جھوٹی خبریں، کردار کشی، غیبت، بہتان، تضحیک، نفرت انگیز گفتگو، مذہبی و سیاسی انتہاپسندی اور دوسروں کی عزت کو مجروح کرنا بہت سے پلیٹ فارمز پر معمول بنتا جا رہا ہے۔
ایک غیر ذمہ دارانہ تبصرہ برسوں کی عزت کو خاک میں ملا سکتا ہے، ایک جھوٹی خبر معاشرے میں خوف پھیلا سکتی ہے، اور ایک وائرل افواہ انسانوں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی کر سکتی ہے جسے گرانے میں برسوں لگ جائیں۔
:قرآن مجید ہمیں خبردار کرتا ہے
«﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾»
تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔”
کیا تم میں سے کوئی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟
یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔” (الحجرات: 12)
یہ تشبیہ محض ایک ادبی اسلوب نہیں، بلکہ انسان کو جھنجھوڑ دینے والی اخلاقی تنبیہ ہے۔
آج اگر ہم کسی کی عزت ایک پوسٹ، ایک ویڈیو، ایک تصویر یا ایک میم کے ذریعے مجروح کرتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کیا گیا ظلم بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں ظلم ہی شمار ہوگا۔
:اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں
«﴿إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا﴾»
بے شک کان، آنکھ اور دل، ان سب کے بارے میں انسان سے پوچھا جائے گا۔” (الإسراء: 36)”
جو آنکھیں اسکرین پر گھنٹوں صرف کرتی ہیں، جو کان ہر آواز سنتے ہیں، اور جو دل ہر پیغام سے متاثر ہوتا ہے، ان سب کی جواب دہی بھی ہوگی۔
لیکن تصویر کا روشن رخ بھی ہے
یہی سوشل میڈیا قرآن کی تعلیم بھی عام کر رہا ہے۔
یہی پلیٹ فارم لاکھوں لوگوں تک حدیث، فقہ، سیرت، تفسیر اور دینی رہنمائی پہنچا رہا ہے۔
یہی ذریعہ اساتذہ کو شاگردوں سے، علماء کو امت سے، محققین کو قارئین سے اور خیر کے کاموں کو مخیر حضرات سے جوڑ رہا ہے۔
قدرتی آفات میں امدادی مہمات، خون کے عطیات، یتیموں کی کفالت، علاج کے لیے چندہ، تعلیمی وظائف اور بے شمار رفاہی منصوبے اسی ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے کامیابی سے مکمل ہو رہے ہیں۔
اسی طرح اعلیٰ تعلیم، نئی مہارتیں، زبانیں، کاروباری تربیت، سائنسی تحقیق اور مفید علوم پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسانی سے عام ہو رہے ہیں۔
اس لیے مسئلہ سوشل میڈیا کا وجود نہیں، بلکہ اس کا استعمال ہے۔
ایک ہی اسکرین کسی کے لیے قرآن کی تلاوت کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور کسی دوسرے کے لیے گناہوں کا دروازہ۔
فرق اسکرین میں نہیں، دل میں ہے۔
—
ٹیکنالوجی: آلہ یا آقا؟
:معروف ابلاغی مفکر مارشل میکلوہن نے کہا تھا
«”Medium is the message.”»
یعنی ابلاغ کا ذریعہ صرف پیغام نہیں پہنچاتا بلکہ انسان کے سوچنے اور دنیا کو دیکھنے کے انداز کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سوشل میڈیا نے ہماری توجہ، ہماری یادداشت، ہمارے مطالعے اور ہمارے تعلقات کے انداز کو بدل دیا ہے۔
مختصر ویڈیوز نے طویل مطالعے کی جگہ لے لی، فوری ردِعمل نے گہرے غور و فکر کو پیچھے دھکیل دیا، اور مقبولیت کو بعض اوقات سچائی پر ترجیح دی جانے لگی۔
:لیکن یہاں ایک بنیادی حقیقت ہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیے
ٹیکنالوجی کبھی اخلاق پیدا نہیں کرتی؛ وہ صرف انسان کے اخلاق کو نمایاں کرتی ہے۔
قلم خود نہ نیک ہوتا ہے نہ بد۔ اسی قلم سے قرآن بھی لکھا جاتا ہے اور جھوٹ بھی۔
زبان خود نہ اچھی ہوتی ہے نہ بری۔ اسی زبان سے ذکرِ الٰہی بھی ہوتا ہے اور غیبت بھی۔
بالکل اسی طرح سوشل میڈیا بھی خود نہ خیر ہے نہ شر؛ وہ انسان کے باطن کا آئینہ ہے۔
جس دل میں ایمان، اخلاص، علم اور خیر خواہی ہوگی، اس کی پوسٹوں سے بھی یہی خوشبو آئے گی۔
اور جس دل میں تکبر، حسد، نفرت اور شہرت کی بے لگام خواہش ہوگی، اس کے الفاظ بھی اسی کی ترجمانی کریں گے۔
ڈیجیٹل امانت
ایک حقیقت جس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کی توجہ بھی ایک امانت ہے۔
لوگ اپنی زندگی کے چند لمحے آپ کی تحریر، ویڈیو یا گفتگو کو دیتے ہیں۔
…سوچیے
آپ ان لمحوں کے بدلے انہیں کیا دیتے ہیں؟
علم یا جہالت؟
امید یا مایوسی؟
اخلاق یا ابتذال؟
سچ یا سنسنی؟
Content Creatorہر مصنف، مقرر، استاد، صحافی اور
کو روز اپنے آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہیے، کیونکہ قیامت کے دن صرف یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے کیا کہا؟ بلکہ یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ نے لوگوں کے دل و دماغ کس چیز سے بھرے؟
یہی احساس ڈیجیٹل دنیا کو محض تفریح کا میدان نہیں، بلکہ امانت اور جواب دہی کا میدان بنا دیتا ہے۔
—
راہِ نجات: ڈیجیٹل دنیا میں اخلاق کی بازیابی
اگر مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا ہوتا تو اس کا حل ایک نئی ایپ، ایک بہتر الگورتھم یا کوئی نیا قانون ہوتا۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔ ٹیکنالوجی انسان کے ہاتھ میں ایک طاقت ہے، جبکہ اس طاقت کا رخ انسان کا (Digital Literacy)کردار متعین کرتا ہے۔ اسی لیے سوشل میڈیا کے دور میں ہمیں صرف ڈیجیٹل مہارت
(Digital Ethics) کی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل اخلاقیات
کی بھی اشد ضرورت ہے۔
۱۔ تحقیق کو اپنی عادت بنائیے
ہر خبر، ہر تصویر، ہر ویڈیو اور ہر دعوے پر فوراً یقین نہ کیجیے۔ تحقیق کے بغیر کسی بات کو آگے بڑھانا نہ صرف علمی کمزوری ہے بلکہ دینی ذمہ داری سے بھی غفلت ہے۔
:اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے
«﴿فَتَبَيَّنُوا﴾»
تحقیق کر لیا کرو۔” (الحجرات: 6)”
ایک ذمہ دار مسلمان کی پہچان یہ نہیں کہ وہ سب سے پہلے خبر پہنچا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اس کی صداقت کی تحقیق کرے۔
—
۲۔ اپنی زبان ہی نہیں، اپنی انگلیوں کی بھی حفاظت کیجیے:
:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
“جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے۔”
«(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»
:اور ایک اور موقع پر فرمایا
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
«(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»
آج “ہاتھ” میں صرف تلوار یا قلم ہی نہیں، بلکہ موبائل فون، کی بورڈ اور ٹچ اسکرین بھی شامل ہیں۔ ایک لمحے میں لکھا گیا جملہ برسوں تک باقی رہ سکتا ہے، اور ایک غیر ذمہ دارانہ تبصرہ کسی انسان کے دل پر ایسا زخم لگا سکتا ہے جو کبھی نہ بھرے۔
اس لیے کوئی پوسٹ لکھنے، تبصرہ کرنے یا کسی پیغام کو آگے بھیجنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے یہ سوال ضرور کیجیے:
اگر یہی الفاظ کل قیامت کے دن میرے نامۂ اعمال میں میرے سامنے رکھ دیے جائیں، تو کیا میں انہیں اطمینان سے پڑھ سکوں گا؟
—
۳۔ اپنے اسکرین ٹائم کو سرمایہ بنائیے
وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے قیمتی نعمت ہے، اور آج اس کا ایک بڑا حصہ ہماری اسکرینوں پر صرف ہو رہا ہے۔
سوچیے! اگر روزانہ صرف ایک گھنٹہ قرآنِ کریم کے فہم، کسی اچھی کتاب کے مطالعے، نئی مہارت کے حصول یا کسی ضرورت مند کی مدد میں صرف کیا جائے تو چند برسوں میں یہی وقت انسان کی شخصیت، علم اور آخرت—تینوں کو بدل سکتا ہے۔
اصل کامیابی زیادہ دیر آن لائن رہنے میں نہیں، بلکہ زیادہ دیر بامقصد رہنے میں ہے۔
—
۴۔ خیر کو بھی وائرل کیجیے
ہم اکثر شکوہ کرتے ہیں کہ برائی بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے خیر کو بھی اسی جوش کے ساتھ پھیلانے کی کوشش کی ہے؟
…ایک قرآنی آیت
…ایک صحیح حدیث
…ایک مفید علمی نکتہ
…ایک حوصلہ افزا بات
…ایک ضرورت مند کی مدد کی اپیل
یہ سب بھی کسی انسان کی زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔
یاد رکھیے! ہر “شیئر” ایک انتخاب ہے، اور ہر انتخاب آپ کے کردار کی گواہی دیتا ہے۔
—
اصل معرکہ اسکرین پر نہیں، دل کے اندر ہے
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری سب سے بڑی جنگ سوشل میڈیا سے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل جنگ سوشل میڈیا سے نہیں، بلکہ اپنے نفس سے ہے۔
اسکرین صرف وہی دکھاتی ہے جو دل میں موجود ہوتا ہے۔
جس دل میں ایمان ہوگا وہاں سے خیر نکلے گی۔
جس دل میں علم ہوگا وہاں سے رہنمائی نکلے گی۔
جس دل میں اخلاص ہوگا وہاں سے خدمت پیدا ہوگی۔
اور جس دل میں حسد، تکبر اور شہرت کی بے لگام خواہش ہوگی، وہاں سے نفرت، فتنہ اور انتشار جنم لے گا۔
اسی لیے اسلام ہمیشہ دل کی اصلاح سے آغاز کرتا ہے، کیونکہ صالح معاشرہ ہمیشہ صالح انسانوں سے بنتا ہے۔
—
اختتامیہ: اسکرین بدلنے سے پہلے دل کو بدلیے
سوشل میڈیا نہ ہمارا دشمن ہے اور نہ ہمارا نجات دہندہ؛ یہ محض ایک ذریعہ ہے۔ ذرائع کبھی قوموں کی تقدیر نہیں بدلتے، تقدیر ہمیشہ انسان کے کردار سے بدلتی ہے۔
آج ایک کلک سے علم بھی پھیلایا جا سکتا ہے اور جہالت بھی، امید بھی بانٹی جا سکتی ہے اور مایوسی بھی، دل جوڑے بھی جا سکتے ہیں اور توڑے بھی۔
فیصلہ ہر لمحہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
!یاد رکھیے
سوشل میڈیا نے انسان کو نہیں بدلا؛ اس نے صرف انسان کے اندر موجود حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے۔
جس دل میں ایمان ہوگا، وہاں سے خیر پھوٹے گی۔
جس دل میں علم ہوگا، وہاں سے روشنی پھیلے گی۔
جس دل میں اللہ کا خوف ہوگا، وہاں سے ذمہ داری جنم لے گی۔
اور جس دل میں دنیا کی بے لگام محبت ہوگی، وہاں سے نفس کی آواز بلند ہوگی۔
اس لیے اسکرین بدلنے سے پہلے اپنے دل کو بدلیے، کیونکہ انسان کی انگلیاں ہمیشہ وہی لکھتی ہیں جو اس کے دل میں آباد ہوتا ہے۔
:اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
«﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾»
،پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی”
وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔” (سورۃ الزلزال: 7–8)
یہ قانون صرف ہماری ظاہری زندگی پر نہیں، بلکہ ہماری ڈیجیٹل زندگی پر بھی یکساں نافذ ہوتا ہے۔
دعا
اے اللہ! ہماری زبانوں کی طرح ہماری انگلیوں کو بھی سچائی کا امین بنا، ہماری آنکھوں کو ہر حرام سے محفوظ رکھ، ہمارے دلوں کو اخلاص سے بھر دے، اور ہماری تحریروں، گفتگو اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو اپنی رضا، دین کی خدمت اور انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ بنا۔
آمین یا رب العالمین۔
—
دعوتِ فکر
اگر آج اللہ تعالیٰ آپ کی پوری ڈیجیٹل زندگی—آپ کی پوسٹس، تبصرے، پیغامات، تلاشیں اور شیئر کیے ہوئے مواد—آپ کے سامنے کھول دیں، تو کیا آپ اطمینان کے ساتھ اسے دیکھ سکیں گے؟
اسی سوال کا جواب آپ کے ڈیجیٹل کردار، آپ کی اخلاقی بصیرت اور شاید آپ کے انجام کا بھی تعین کرے گا۔